Ibne_Abdullahnovels

Sunday, February 6, 2022

AAlaf novel episode 2| آلف ناول قسط 2

 


آلف ناول قسط 2

۔

از قلم ابن عبداللہ 

.

تم جب مجھے دیکھتے ہو مجھے لگتا ھے میں دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی ہوں۔تم جب مجھے چھوتے ہو مجھے لگتا ایک نئی زندگی تمہارے لمس سے میرے بدن میں داخل ہو رہی ہے_تم جب مجھے اپنی بانہوں میں بھرتے ہو یوں لگتا ہے گویا میں سب سے زیادہ محفوظ ہوں دنیا میں_تمہارے بوسوں سے میری بیمار روح کا شفا ملتی ہے اور تمہاری حدت سے میرے سارے موسم گرم رہتے ہیں۔

اس کے سینے پر سر رکھے مسلسل بولتے ہوئے وہ ایک لمحے کو رکی اور سر اٹھا کر اسے دیکھا جو اس کی باتوں کو سنتے ہوئے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہا تھا ۔

کیا تم سن رہے ہو؟ 

ہاں تمہیں سننے سے زیادہ خوبصورت اور کیا ہو سکتا ہے جان عزیز؟ 

تم میری بانہوں میں ہو اور تمہارا یہ خوبصورت سراپا میری دسترس میں ہے__

تمہاری روح پر میری حکمرانی ہے اور تمہارے بدن پر میرے لمس کی یاداشتوں کے سلسلے ہیں۔

تمہارا وجود دل بن کر میرے سینے میں دھڑک رہا ہے ___وہ نرمی سے کہتا ہوا اس کے لبوں پر جھکا تھا___ایک بوسہ جو زندگی کو زندگی سے ملاتا ہے___

میں تمہیں یقیناً سن رہا ہوں____تمہارے لمس کو تمہاری آواز کو تمہاری دھڑکن کو____تمہیں__پیاسا پانی کی آواز کو سنتا ہے_

اسے شدت سے بانہوں کی حصار میں جکڑتے ہوئے وہ محبت سے بولا۔

وہ مطمئن انداز میں اس کی بانہوں میں کسی ہرنی کی طرح سمٹ گئی تھی۔

تمہاری خوشبو سے بہتر کوئی عطر نہیں ہے اور تم سے بہتر کوئی میرا لباس نہیں___

کھڑکی پر  بارش دستک دینے لگی تھی____آلف نے کھڑکی پر بارش کی بوندوں کو گرتے دیکھا تھا___تمہیں بارش پسند ھے؟ عفاف کے کانوں میں سر گوشی کی تھی۔

آپ سے زیادہ نہیں _

وہ مسکایا___اور اس کے جلتے ہوئے بدن کی نرمیوں میں خود کو ڈوبتا ہوا محسوس کرنے لگا. 

تھوڑی دیر بارش کی مترنم آوازیں کمرے میں گونجتی رہیں پھر عفاف نے اس کے سینے سے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور بولی۔

آپ حویلی گئے تھے کیا بنا؟ 

کچھ نہیں بس وہی زندگی ھے وہاں کی جیسے ہم چھوڑ کر آئے تھے۔

آپ تایا سے اب گلے شکوے ختم کیوں نہیں کر دیتے ہیں؟ 

آلف نے اس کی کمر کے گرد اپنی گرفت کو مضبوط کیا اور پھر اس کے ہونٹوں پر جھکا۔

مجھے بتائیں جو پوچھا میں نے ۔عفاف نے اپنے لبوں کو اس کے لبوں سے آزاد کرتے ہوئے دوبارہ کہا ۔

تم جانتی ہو وہ کیا کرنا چاہتے تھے پھر بھی؟ 

جو وہ کرنا چاہتے تھے وہ ہوا تو نہیں اب ناراضگی کیسی؟ 

آلف نے اس لڑکی کو دیکھا جس کے ساتھ برا ہونے جا رہا تھا اپنے سے دس گناہ بڑے چودھری کے ساتھ بیاہی جا رہی تھی وہ اور وہ ہی اسے معاف کرنے کا بول رہی تھی۔

ایسے کیا دیکھ رہیں ہیں؟ وہ اس کے بالوں میں انگلیوں پھیرنے لگی تھی۔

میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اتنی فراخدل کیسے ہو سکتی ہو؟ 

کیا تمہارے لئے میرے کھو دینے کا عمل اتنا آسان ہے کہ تم معافی کی بات کر رہی ہو؟ 

ایسا نہیں ہے _وہ جلدی سے بولی

ایسا ہی ھے وہ برہم ہوکر اٹھنے ہی لگا تھا کہ آلف نے اپنا وزن اس کے وجود پر ڈال دیا  اور اس کے کان کی لو پر دانتوں سے کاٹا۔

میرے لئے وہ سب تکلیف دہ تھا اور ان دنوں کی یادیں آسیب کی طرح میرے دل و دماغ پر مسلط ہیں. 

مگر اب تھوڑی فراخدلی کی جا سکتی ھے رشتوں میں۔

اتنی فراخ دل ہو؟ 

ہاں ہوں نا_وہ ہنسی

آلف نے اس گھما کر نیچے کیا اور خود اس کے اوپر آگیا۔

چلو دیکھتے ہیں کتنی فراخدل ہو اور مجھے کیا نوازتی ہو۔وہ شرارت سے بولا ۔

دیکھیں آپ موضوع سے ہٹ رہے ہیں___

وہ کسمسائی تھی۔

ہرگز نہیں میرا موضوع تو یہی ھے__وہ مزید کچھ کہتی مگر آلف نے اپنے لبوں سے اس کے لبوں پر تالا لگا دیا تھا ۔

                             

                                       ⭐⭐⭐

حویلی ویسی ہی تھی اور اس کے لوگ بھی ویسے ہی تھے___وہی ریت رواج اور اس کی شان و شوکت۔مگر اب آلف کو وہ قید خانہ لگتی تھی جس میں ہر خواہش دم توڑ دیتی تھی ۔

اسے اچھے سے یاد تھا کہ چھوٹے چچا چچی کی وفات پر عفاف وہاں آئی تھی۔

چھوٹے چچا نے ہمدان شاہ کی خواہش کے خلاف جا کر محبت کی شادی کی تھی جس کے جرم میں انہیں حویلی سے نکال دیا گیا۔

اور پھر بائیس سال کے بعد ایک کار ایکسیڈنٹ میں چچا اور چچی گزر گئے اور عفاف اکیلی رہ گئی۔

ہمدان شاہ کبھی اسے حویلی لیکر نہ آتے مگر یہاں بھی ان کی جھوٹی انا تھی کہ وہ حویلی کا خون تھی اور در در پر بھٹکتی تو ان کی عزت کا جنازہ نکل جاتا اس لئے نا چاہتے ہوئے بھی  عفاف کو حویلی میں لانا پڑا ۔

آلف نے جب اسے دیکھا تھا تب وہ رو رو کر نڈھال تھی سرخ ناک اور سوجھی ہوئی آنکھیں ۔

عفاف کو روتا دیکھ کر پتا نہیں کیوں اس وقت اس دل کیا کہ کاش کچھ ایسا ہو کہ وہ لڑکی ہنسے۔

عفاف کو جب نوکروں کے کواٹر میں رکھا جانے لگا تھا تب بھی وہی ایک تھا جس نے ہمدان شاہ سے اسے حویلی کے اندر ایک رشتے حثیت سے رکھنے کی بات کی اور شاید وہی لمحہ تھا جب ہمدان شاہ جیسے زیرک انسان نے جان لیا تھا کہ برسوں پہلے کی کہانی دوبارہ دہرائے جانے والی ھے شاید اس لئے اسی دن سے انہوں نے ٹھان لی تھی کہ جلد ہی وہ عفاف سے چھٹکارا حاصل کر لیں گے ۔آلف ان کا اکلوتا فرزند تھا اور وہ نہیں چاہتے تھے ان کی گدی پر بیٹھنے والا انسان کسی اور کے شکنجے میں ہو چھوٹے بھائی کی پسند کی شادی سے انہیں ویسے بھی محبت نامی شے نفرت ہوگئی۔

مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ ہونی کو کون ٹال سکتا تھا۔

 

                                    ⭐⭐⭐⭐


کیا تم مجھے گھورنا بند کر سکتے ہو؟ 

آئنے کے سامنے میک اپ کرتی ہوئی عفاف نے آلف کو آئنے میں دیکھ کر کہا۔

ہرگز نہیں___آلف نے شوخی سے کہا___تمہارے جملہ حقوق میرے نام پر محفوظ ہیں جن میں گھورنے کے علاوہ دیگر بھی ہیں! 

وہ اٹھ کر عفاف کے پیچھے آکھڑا ہوا__

شرافت سے وہاں بیٹھیں آپ مجھے پہلے ہی دیر ہو رہی ہے___عفاف نے اس کے ارادے بھانپ کر تنبیہ کی۔

میں شریف ہرگز نہیں ہوں جان آلف۔

آلف نے اس کی صراحی دار گردن پر بوسہ دیتے ہوئے کہا-

آپ تیار نہیں ہوئے؟ شادی پر نہیں جانا کیا؟ 

عفاف نے اس کا دھیان ہٹانے کے لئے بات بدلی ۔

تم میرے ساتھ ہو تو مجھے تیاری کی کیا ضرورت ہے جان آلف؟ 

تمہارے ساتھ ہر حال میں خوبصورت نظر آتا ہوں میں__

آلف نے اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کرتے ہوئے اس کے کان میں سرگوشی کی ۔

دیکھیں آپ وہاں جاکر کیوں نہیں بیٹھتے ہیں ایسے میرا سارا میک اپ خراب کر دینا ہے۔

عفاف اس کے قریب آنے سے ہمیشہ کی طرح نروس ہوئی تھی اور لپ سٹک ہونٹوں پر لگاتے ہوئے ہاتھ لرزا  تھا۔عفاف نے ٹشو پکڑا۔

وہی تو مجھے کرنا ہے__آلف نے اس کے ہاتھ سے ٹشو لیا اور اس کا رخ اپنی جانب موڑا۔

لپسٹک ہونٹوں سے ہلکی سی باہر پھیلی تھی۔

ویسے ٹشو کے علاوہ میرے پاس ایک اور آئڈیا ہے لپسٹک صاف کرنے کا۔

وہ اس کے چہرے پر جھکا ۔

عفاف اسے دھکیلا۔

ایک تو آپ کو آرام نہیں کہیں بھی شروع ہوجاتے ہیں۔

تمہارا حسن ہلکان کیے رکھتا ھے مجھے__آرام تو بس تمہاری بانہوں میں ہے۔

عفاف نے خفگی سے اسے دیکھا ۔

لڑکیوں کو شکوہ ہوتا کہ ان کے شوہر رومانٹک نہیں ہیں__پر یہاں الٹا معاملہ ہے۔

عفاف نے اس کی بات پر منہ بنایا

فلحال آپ آرام سے وہیں بیٹھیں_اور مجھے تیار ہونے دیں

وہ بالوں کو سلیقے سے جوڑ کر کلپ لگاتے ہوئے بولی تھی۔

اس نے ہاتھ بڑھا کر کلپ اتار دیا تھا_

مجھے تم کھلے بالوں میں زیادہ اچھا لگتی ہو_

دیکھیں اب آپ مجھے تنگ کر رہے ہیں___

وہ آئنے میں اس کا عکس دیکھتے ہوئے ہنسا اور بالوں کو اس کی گردن سے ہٹا کر جیب سے نیکلس نکالا 

وہ چونکی__یہ کیا ھے کب لائے آپ؟ 

وہ نیکلس دیکھ کر حیران ہوئی تھی جو بے حد خوبصورت تھا۔

راستے میں آتے ہوئے ایک جیولری شاپ کے شوکیس میں اس کو دیکھا ۔

دل نے کہا یہ صرف میری محبوب بیوی کی گلے میں اچھا لگے گا___سو لے لیا۔

یہ تحفہ ھے___وہ اس کے گلے میں نیکلس پہناتے ہوئے بولا۔

یہ کتنا خوبصورت ہے __وہ اس چھوتے ہوئے بولی۔

تم سے زیادہ نہیں___وہ اس کی گردن پر بوسہ دیتا ہوا نرمی سے بولا۔

ہٹیں پیچھیں۔

وہ بدکی تھی __اسے پتا تھا کہ اگر اس نے آلف کو روکا نہیں تو انہیں پہنچنے میں دیر ہوجائے گی___

پیچھے تو میں تب نہیں ہٹا تھا جب ساری دنیا مجھے تم سے دور کرنے کے لئے دیوار بنے کھڑی تھی ۔

وہ اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کرتے ہوئے محبت سے چور لہجے میں بولا تھا 


                                        جاری ھے


No comments:

Post a Comment