Ibne_Abdullahnovels

Thursday, December 30, 2021

Allaf romantic novel by ibne abdullahepisode 1

 

وہ کچن میں دوپہر کے لئے کھانا بنانے کا سوچ رہی تھی جب آلف نے پیچھے سے اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کئے ۔

عفاف کی چیخ نکل گئی تھی ۔

یہ کیا بات ھے آلف ایسے بھی کوئی کرتا ھے آپ نے تو میری جان نکال دی تھی ۔

جان آلف ____بس تمہاری کمر نے کھینچ لیا مجھے ۔

وہ اس کے بالوں کو چھوتے ہوئے بولا ۔

جی نہیں ۔اور آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ اسے ابھی خیال آیا تھا کے پانچ منٹ پہلے ہی وہ فیکٹری کے لئے نکلا تھا ۔

کیا مطلب بھئی کیا کر رہاہوں۔یہ ہمارا گھر ھے اور تم میری زوجہ محترمہ ہو۔

ہاں وہ تو ٹھیک ھے مگر آپ تو فیکٹری جا رہے تھے۔

عفاف نے اسے شرارت کرتے ہاتھوں کو پکڑ ۔

ہاں جا رہا تھا مگر اب نہیں جاؤں گا۔

کیوں نہیں جائیں گے ؟

کیوں کے باہر دیکھو بارش ہو رہی ھے۔

وہ اس کے کاندھے سے قمیض سرکانے کی کوشش کرتے ہوئے بے پرواہی سے بولا۔

تو آپ نے کون سا پیدل جانا ھے آلف۔

باہر دو تین گاڑیاں کھڑی ہیں کوئی بھی لے جا سکتے ۔

بھئی ایسے حسین موسم میں اتنی پیاری بیوی کو چھوڑ کر میں بورنگ سی میٹنگ میں نہیں جانے والا۔

وہ اس کی گردن کی ہڈیوں پر انگلی پھیرتے ہوئے ہنسا ۔

حد ہوتی ھے بے پروائی کی آلف انکل نسیم پہلے ہی کہہ رہے تھے تم بزنس پر دھیان نہیں دیتے۔

ہاں نہیں دیتا اور اس میں تمہاری ہی غلطی ھے۔

میری غلطی کیوں؟ وہ حیران ہوئی تھی ۔

کیوں کے تم حسین ہو اور مجھے ڈسٹرکٹ کرتی ہو۔

زیادہ فری مت ہوں آپ۔

چلیں جائیں اب ۔مجھے دوپہر کے لئے کھانا دیکھنا ھے کہ کیا بنانا۔

ہرگز نہیں ۔

آلف نے اسے بازؤں میں اٹھا لیا تھا ۔

مجھے نیچے اتاریں ۔وہ چیختی چلاتی رہ گئی تھی پر وہ کہاں سننے والا تھا اسے اٹھا کر روم میں لے آیا تھا اور اب اس کے لئے لباس ڈھونڈتے ہوئے لانگ ڈرائیو پر لے جانے کی بات کر رہا تھا۔

اپنی پسند کا لباس ڈھونڈ کر وہ اس کی جانب مڑا۔

یہ پہننا ھے تم نے۔

بلکہ میں خود پہناؤں گا۔

جی نہیں اس کے ہاتھ سے لباس لیکر وہ واش چینجنگ روم کی جانب مڑی اور آلف کے کچھ کہنے سے پہلے ہی دروازہ لاک کر دیا ۔

یہ تو زیادتی ھے۔وہ دروازے کی دوسری طرف سے احتجاجاً بولا تھا ۔

اور جو آپ دن رات زیادتیاں کرتے ہیں اس کا کیا.

اپنے خوبصورت بدن کو لباس سے آزاد کرتے ہوئے وہ بولی تھی ۔

مجھے دیکھنا ہے۔

جی نہیں صبر رکھئیے تھوڑا ۔

وہ اس کی حالت سے لطف اندوز ہو رہی تھی ۔

میں اس بات کا بدلہ لوں گا دیکھنا تم۔

وہ اسے ڈرا رہا تھا ۔

لے لیجئے گا فلحال تو صبر کیجیے____سرخ بلاّؤز پہن رہی ہوں ۔

آخری بات اس نے جان بوجھ کر کی تھی ۔

وہ جانتی تھی اس کی کمزوری۔

پہن لو پر کم از کم مجھے بتاؤ تو نہیں ۔

آلف نے جل کر کہا تو وہ ہنسی تھی ۔

ہک نہیں لگ رہی ہے اب بلاؤز کی____وہ پھر بولی۔

آلف نے بند دروازے کو دیکھا۔

میں نے دروازہ ہی توڑ دینا ھے عفاف اگر اب تم کچھ بولی تو۔

جواب میں وہ زور سے ہنسی تھی ۔!

.

    *********

۔


گاڑی گاؤں جانے والی سڑک کی طرف مڑی تو آلف نے طویل سانس لیا اور سیدھا ہوکر بیٹھ گیا ۔

سڑک کے اطراف میں میں کھیتوں کے سلسلے تھے جو کہ شہریار کے والد۔۔مصطفیٰ شاہ کے تھے۔

ان کھیتوں سے اس کی حسین یادیں وابستہ تھیں،

اس نے شیشہ نیچے کیا تو صبح کی نرم ہوا نے اس کے ماتھے پر بکھرے بادلوں کو چھیڑا۔

گاؤں جاگ چکا تھا۔کسان کھیتوں میں کام کرتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔

وہ ان بوڑھے کسانوں کو جانتا تھا اس کا بچپن ان لوگوں کے درمیان ہی گزارا تھا۔

دور ہٹ چلنے کی آواز بھی اسے سنائی دے رہی تھی۔

شام ڈھلے اکثر وہ اس کی آواز حویلی کی چھت پر بیٹھے سنتا تھا ۔پر آج اس آواز میں وہ شناسائی ہرگز نہیں تھی جس کا وہ بچپن سے شیدائی تھا۔

حویلی کی گاڑی کو پہچان کر لوگ خود بخود ہاتھ اٹھا کر اسے سلام کر رہے تھے۔

کچھ لوگوں نے اسے پہچان لیا تھا۔شاید اس لئے ان کے چہرے پر حیرت تھی ۔

پانچ برس قبل وہ جن حالات میں یہاں سب کو چھوڑ کر نکلا تھا وہ ایک ایک کر کے اسے یاد آنے لگے تھے ۔

پانچ برسوں کی گرد نے اس کے حافظے کو زرا سا بھی دھندلا نہیں کیا تھا ۔

یادیں عجیب چیز ہوتی ہیں جہنیں وقت بھی مٹا نہیں سکتا ھے۔

نیویارک کی دھند آلود دن ہوں یا دریائے ٹینز کے کنارے وہ گٹار بجاتا بوڑھا،

نائٹس کلب کی پھڑکتی ہوئی روشنیاں ہوں یا کیرلائن کی مر مریں بانہیں اور خوبصورت چاندی میں تراشا ہوا بدن۔

کوئی بھی چیز اس کی یادوں کو مٹانے میں ناکام تھی۔

گاڑی حویلی کے بڑے گیٹ سے اندر داخل ہوچکی تھی ۔

منشی اللہ رکھا اس کے استقبال کے لئے موجود تھا۔

"کیسا رہا سفر"

منشی نے اس سے سے پوچھا تو وہ مسکرایا۔

کٹ گیا بس۔

مختصر سا جواب دیکر کر وہ حویلی کو غور سے دیکھنے لگا۔

پانچ سالوں میں کچھ بھی نہیں بدلا تھا۔

اس کی نظر گھومتی ہوئی پائیں باغ کے اوپر بند کھڑکی پر جا ٹھہری تھی ۔

ایک خوبصورت چہرہ اس کی یادوں کی کھڑکی پر طلوع ہوا تھا ۔جسے وہ اپنی دانست بہت پیچھے چھوڑ چکا تھا ۔

پر آج اس کھڑکی کو دیکھتے ہوئے اس پر انکشاف ہوا کہ نیویورک کی تیز رفتار زندگی اپنے آپ کو گم کرنے لینے کے باوجود بھی وہ کچھ نہیں بھولا تھا۔

آپ کے لئے مہمان خانہ کھول دیا گیا ھے چھوٹے مالک ۔

اللہ رکھا کی آواز سن کر وہ چونکا۔

ایک لمحے کو اس نے کچھ کہنا چاہا ۔پر پھر رک گیا ۔

حویلی کے لئے وہ کب کا پرایا ہو چکا تھا ۔

سو مہمان خانے کی طرف مڑ گیا جو حویلی کے بغل میں واقع تھا۔

خاص مہمانوں کو ہمیشہ وہی رکھا جاتا تھا۔

بڑی بیگم اور شاہ جی آپ کے ساتھ کل دوپہر کے کھانے پر ملاقات کریں گے۔

اللہ رکھا کی بات سن کر اس نے سر ہلانے پر ہی اتفاق کیا تھا۔

    

آلف کی شرارت سے اس کی آنکھ کھل گئی تھی۔

افف آلف آپ صبح صبح پھر شروع ہوگئے ہیں!

بس بھی کر دیں___اسے پیچھے دھکیلتے ہوئے عفاف نے اپنی نائٹی ٹھیک کی.

سنا ہے صبح صبح جو کام کیا جاتا وہ اچھا ہوتا۔

اسے خود سے لپٹاٹے ہوئے وہ شوخی سے بولا ۔

آپ کو رومانس کے علاوہ کچھ سوجھتا بھی ہے یا نہیں ؟

ہاں سوجھتا ہے نا___اپنے بچوں کے نام…

وہ ہنسا۔

اچھا مجھے جانے دیں اب

ہر گز نہیں ایسے کیسے جانے دوں بھئی ابھی تو پکچر باقی ہے.

وہ اس کے گالوں پر گال رگڑتے ہوئے بولا۔

جواب میں عفاف نے اس کی گردن پر کاٹا تھا ۔

آلف کا بازوؤں کا گھیرا ڈھیلا پڑتے ہی وہ اس کی بانہوں سے نکل گئی۔

مسز آلف اس زیادتی کا بدلہ تو میں لوں گا۔

وہ گردن سہلاتے ہوئے بولا۔

لے لیجئے گا۔

آلف نے غور سے اسے دیکھا ۔شب خوابی کے باریک لباس میں اس کا چاندنی سے دھلا بدن جیسے بادلوں کی اوٹ سے چاند سے جھانک رہا تھا۔

َآلف نے سرد آہ بھری تو عفاف ہنسی___ایسے ہی ترستے رہو گے تم۔

وہ تو دیکھتے ہیں مسز آلف رات کو___آلف نے آنکھ ماری تو وہ جھینپ گئی تھی!.


*********



عفاف آئنے کے سامنے کھڑی تیار ہو رہی تھی جب آلف روم میں داخل ہوا۔

واہ آج تو حسن کو نکھارہ جا رہا ہے ملکہ عالیہ

وہ کف فولڈ کرتا ہوا اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا تھا_اب نظر مت لگا دیجئے گا_

اجی آپ تیار تو ہوجائیے پھر ہم تسلی سے نظر بھی اتار لیں گے ابھی تو نظروں میں اتار رہے ہیں۔

اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کرتے ہوئے وہ شوخی سے بولا۔

خبردار_پیچھے دور ہوکر کھڑے ہوں زیادہ شوخی دیکھانے کی ضرورت نہیں_

جتنا دور ہوں اس سے زیادہ دور تو میں تم سے رہ بھی نہیں سکتا۔

ویسے کہاں کی تیاری ہے؟

میری فرینڈ کی شادی ہے مجھے وہاں جانا ہے_لبوں پر لپسٹک کو درست کرنے کے لئے عفاف نے ہونٹوں کو گول گول گھماتے ہوئے کہا۔

واللہ__یہ تو سریحاً دعوت بوسہ و کنار ہے ملکہ_شاید آپ وہاں دیر سے پہنچنا چاہتی ہیں_آلف نے اس کو ہونٹوں کی جنبش کو دیکھتے ہوئے کہا_

زیادہ فری مت ہوں_اس کے ہاتھوں کی گستاخیوں کو روکتے ہوئے عفاف نے اسے ٹوکا۔

ویسے موصوف کا موڈ آج زیادہ ہی اچھا ہے_عفاف کو جب وہ ملکہ کہتا تھا تو اسے پتا چل جاتا تھا وہ آج خوش ہے_اور جب وہ اداس ہوتا تھا یا غصے میں تو عفاف کا نام لیتا تھا۔

بس اتنی حسین صورت یہ قیامت خیز بدن، یہ مرمریں بانہیں_خوشی کا سبب ہیں_اس کے ہاتھ پھر گستاخیوں کی طرف مائل ہو رہے تھے_

زیادہ غالب بننے کی ضرورت نہیں ہے آپ کو _کیا آپ نے لنچ کر لیا؟

ہاں آفس میں کر لیا تھا مگر زیادہ اچھا نہیں تھا۔

کیوں ذائقہ نہیں تھا کیا؟

بالوں میں برش پھیرتے ہوئے وہ آئنے میں اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔

ویسے تمہاری اس لپسٹک کا ذائقہ بھی خوب ہے_وہ پھر گھوم پھر کر اسی پر آگیا تھا۔

سدھر جائیں آپ آلف_چلیں اب فریش ہوجائیں پھر مجھے میری فرینڈ کے پاس ڈراپ بھی کرنا ہے۔

سچ میں فریش ہو جاؤں؟ اس کی کمر کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے وہ اس کے کان میں دھیمے سے بولا تھا۔

مار کھانی ہے مجھ سے؟ عفاف نے مصنوعی غصہ دکھایا_زہے نصیب_وہ اس کے بدن کی خوشبو کو سانسوں 

میں اتارتے ہوئے خوشی سے چہکا تھا۔

    -*********

ہمدان شاہ آلف کو بوڑھے دکھائی دے رہے تھے_ماہ و سال کی تھکن ان کے چہرے سے صاف دکھائی دے رہی تھی_ناشتے کی میز پر تین نفوس تھے_ایک آلف دوسری اس کی ماں اور تیسرا ہمدان شاہ جو کہ اس کا باپ تھا_

تو کیسے گزرے دن؟ ہمدان شاہ نے پوچھا تھا۔

یہاں سے کہیں زیادہ اچھے_

اس نے طنزیہ طور پر کہا تھا_ہونہہ_حمدان شاہ نے ہنکارہ بھرا_رسی جل گئی پر بل نہیں گیا_

قدسیہ بیگم نے سر کے اشارے سے انہیں ٹوکا تھا___آپ کیسی ہیں امی؟

وہ ماں سے مخاطب ہوا تھا_

میں ٹھیک ہوں تمہاری یاد آرہی تھی بہت اور مرنے سے پہلے ایک بار تمہاری شکل دیکھنا چاہتی تھی_بوڑھی ہوگئی ہوں میں اب تو بس بلاوے کا انتظار ہے_تمہیں دیکھ لیا یہی کافی ہے میری خوشی کے لئے ۔

ایسا مت کہیں_آلف نے ماں کے ہاتھوں کو پکڑا__اللہ آپ کا سایہ مجھ پر ہمیشہ سلامت رکھے۔

وہ کیسی ہے؟ ہمدان شاہ نے ان کی بات ٹوکی۔

وہ کون؟ آلف سمجھ گیا تھا وہ کس کا پوچھ رہے ہیں_مگر وہ نام ان کے منہ سے سننا چاہتا تھا۔

تم اچھے سے جانتے ہو کہ میں کس کا پوچھ رہا ہوں__

اچھا تو آپ کہیں اس کا تو نہیں پوچھ رہے جسے چند مربعہ زمین اور اپنے ووٹ بینک کو زیادہ کرنے کے لئے آپ اس کا سودہ شادی کے نام پر کر رہے تھے؟ وہ آپ کی بھیتجی ہے اور اس کا نام آلف ہے۔

ہمدان شاہ کے ماتھے پر بل پڑے تھے_

ٹیبل کا ماحول گرم ہو رہا تھا قدسیہ بیگم نے محسوس کر لیا تھا کہ اب باپ بیٹے میں ٹھننے والی ہے سو کھڑی ہوتے ہوئے بولیں۔

بیٹے مجھے میرے کمرے تک چھوڑ دو_

آلف نے ایک نظر ہمدان شاہ کے سرخ چہرے کی طرف دیکھا اور پھر اٹھ کھڑا_جی امی ضرور___

وہ ماں کے ساتھ ان کے کمرے تک آیا تھا_شاہ بوڑھے ہوگئے ہیں بیٹا_تمہیں خیال کرنا چاہئے اب _قدسیہ بیگم نے آلف کو کہا۔

بوڑھے ہوگئے ہیں مگر دم خم ویسے کا ویسے ہی ہے ۔

تم اپنے باپ کو اچھے سے جانتے ہو_انہیں اپنی پرانی غلطی کا احساس ہے_مگر وہ ایسا کہتے نہیں ہیں_

ہاں مجھے معلوم ہے امی_ان کی شان و شوکت میں کمی آتی ہے غلطی تسلیم کر لینے میں _

جو بھی ہے تمہیں تھوڑا خیال کرنا چاہئے_قدسیہ بیگم کی بات پر آلف نے سرہلانے پر ہی اتفاق کیا تھا۔

    ***********

ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی اور عفاف کے ٹیرس پر سرمائی شام اتر چکی تھی___وہ لان میں بارش میں بھیگ رہی تھی جب آلف کی گاڑی پورچ میں رکی تو وہ ٹھہر کر اسے دیکھنے لگی۔

گھر میں وہ دو ہی رہتے تھے اس لئے آلف آزادی سے گھومتی پھرتی رہتی۔

آلف آہستہ قدموں سے چلتا ہوا اس کے پاس آگیا تھا_

جان عزیز___تمہیں بھیگا ہوا دیکھ کر دن بھر کی تھکن یکلخت محبت کی نرمی میں بدل گئی۔

وہ اسے نظروں کے حصار میں لیتے ہوئے فریش لہجے میں بولا تو وہ ہنسی۔

مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے۔

آلف نے اس کا جائزہ لیا____اس کی ریشمی زلفیں بھیگی ہوئیں اس کی گردن پر لپٹی ہوئی تھیں___بھیگنے کی وجہ سے اس کا کا لباس اس کے بدن کے ہر انگ کو کھول رہا تھا اس کے ابھرے ہوئے نشیب و فراز یونانی دیویوں کی طرح سنگ مرمر کا تراشے گئے مجسمے کی طرح واضح تھے_

بخدا جان آلف____کیا ہی خوبصورت تمہیں بنایا گیا ہے_ایسا کہ دیکھتے رہو جی نہ بھرے _

ایسی کتاب جسے پڑھتے پڑھتے عمر لطافت میں گزر جائے_

آپ کے لئے چائے بناتی ہوں میں _اور تعریف کے لئے شکریہ___وہ شوخی سے کہتی ہوئی مڑی ہی تھی کہ آلف نے نے اسے اپنی بانہوں میں قید کر لیا_

ایسے نہیں ہوتا ہے جان من____چائے سے زیادہ مجھے تمہاری طلب ہو رہی ھے-

بارش تھوڑی تیز ہوئی تھی____آلف اپنے سینے میں عفاف کی نرم و گداز سینے کو دھڑکتا ہوا محسوس کر رہا تھا

آپ کہیں بھی شروع ہوجاتے ہیں یہ بیڈ روم نہیں لان ہے۔

وہ خود کو چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی ۔

راحت زندگی ____یہاں ہم دو ہیں اور تیسری بارش ہے۔

اس کے بالائی ہونٹ کو اپنے ہونٹوں میں جکڑتے ہوئے آلف نے بازوں کا گھیرا تنگ کیا تھا_عفاف کے انکار کے سارے لفظ بارش میں کھو گئے تھے۔

آلف نے اسے اس کی گردن پر اپنے سلگتے ہوئے ہونٹ رکھے تھے____یہ وہ کمزور جگہ تھی جہاں آلف کے ہونٹ لگتے ہی وہ جام بن کر چھلک جاتی تھی اور اسے یوں لگتا جیسے اس کا بدن پورا سمٹ کر آلف کے لبوں پر آ ٹھہرا ہو۔

بس بھی کر دیں اب

وہ اس کے لمس سے بہک رہی تھی

آلف نے اسے بانہوں میں بھر کر اٹھایا اور اندر بیڈ روم میں لے آیا

اور بارش تیز ہوچکی تھی_

عفاف کا بدن دل بن کر دھڑک رہا تھا___

تمہارے بدن سے زیادہ خوبصورت کوئی اور شے اس دنیا میں میں__اس کی ریشمی زلفیں جو اس کے کاندھوں پر بکھری چلی جا رہی تھیں_آلف اسے سر تا پاؤں چومے جا رہا تھا____ان دنوں کی سانسیں ایک دوسرے سے مل کر ایک نغمہ بن کر کمرے میں گونج رہی تھیں_

بارش بھی ان کی شدتوں کی طرح دیوانہ وار تیز ہوتی جا رہی تھی___آلف عفاف کے کورے بدن پر لبوں سے حرف محبت کی داستان لکھ رہا تھا„ان دنوں نے ایک دوسرے کو یوں تھاما ہوا تھا جیسے کسی پیڑ کی جڑیں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہوتی ہیں۔

دنیا میں محبوب کی قربت سے بہتر کوئی راحت نہیں ہو ہو سکتی ہے اور ایک بے لباس عورت سے بہتر خوبصورت منظر اور کوئی نہیں ہو سکتا ۔

کمرے سے باہر بارش اور کمرے کے اندر محبت تمام تر شدتوں کے ساتھ برسے جا رہی تھی اور وہ دنوں اس میں بھیگتے جا ریے تھے۔

۔وہ لمحہ بڑا مقدس

جب میں نے تمہیں دیکھا

میری نگاہوں نے پہلی بار

تمہارے چہرے پر بوسہ دیا

میری بنجر سماعت میں

تمہاری آواز کی بارش برسی

وہ ایک لمحہ جس نے مجھے

خود مجھ پر منکشف کر دیا

جس نے مجھے محبت سے ملایا

وہ لمحہ جو میری زندگی پر محیط ہوگیا

جس میں میرا دوسرا جنم ہوا

میرے دل نے محبت کو پیدا کیا

میری بے معنی زندگی کو معنی ملا

وہ ایک لمحہ کہ جس کے بعد

میرے راستوں نے منزلوں کو تراشہ

میری روح کو محبوبیت کا گیت سنایا۔۔۔!!



    






……

جاری ہے 

1 comment:

  1. Pora novel kabhi to de dain start ki 5 epi k bad aap baqi dete hi nhi or ab to 1st k bad hi break laga di

    ReplyDelete